Wednesday, 5 February 2014

امام ابو حنیفہؒ پیدا ہی مجتہد ہوئے تھے یا کچھ پڑھ کر مجتہد بنے تھے؟

سوال:۔
امام ابو حنیفہؒ پیدا ہی مجتہد ہوئے تھے یا کچھ پڑھ کر مجتہد بنے تھے؟ اگر کچھ پڑھا پڑھا کر مجتہد بنے تھے تو جب تک پڑھتے رہے، علم حاصل کرتے رہے ، مقلد رہے یا غیرمقلد؟ اگر وہ کسسی کے مقلد تھے تو پھر انہوں نے تقلید جو کہ مقلدین کے عقیدے کے مطابق واجب ہے، چھوڑ کر اپنا اجتہاد کیوں کر دیا۔؟

الجواب:۔
کوئی شخص نہ پیدا مجتہد ہوتا ہے نہ محدث، امام ابوحنیفہؒ تابعی یا دیگر ائمہ اپنے استاد سے ہی اجتہاد کا کورس کرتے رہے اور وہ اپنے استاد سے اس طرح ان کے استادوں میں عبداللہ بن مسعودؓ آتے ہیں اور ان کے استاد خود رسول اللہ ﷺ، سبحان اللہ عظیم ۔اور ایسا شخص اپنے سے بڑے عالم(مجتہد ) کی تقلید کرتا ہے ۔(التعلیقات السنۃ ص۹۶ بقول ابی حنیفه) اس وقت واجب تھی لیکن چونکہ ان کے مذاہب مدون نہ تھے اور نہ عمل متواتر ہوا اور امام ابو حنیفہؒ نے سب سے پہلے مذہب مدون فرمایا جس پر آج تک متواتر عمل ہے اور ایسے شاگرد تیار کیئے جو کہ قوائد میں تو انہی کی تقلید کرتے مگر مسائل میں خود استنباط جانتے تھے۔اور چاروں ائمہ کے علاوہ بھی دوسرے مذہب رہے اور اس سے مراد کوئی نیا اسلام یا دین نہیں بلکہ ائمہ یہی دین لے کر چلے صرف اجتہادی اختلاف تھا ، مسائل فروعی بعض ایسے ہیں جن پر صحابہ کا اتفاق تھا ان میں ائمہ اربعہ کا بھی اتفاق ہے، اور بعض مسائل ایسے ہیں جن میں صحابہ میں اختلاف تھا ان اختلافات میں ائمہ اربعہ نے ایک ایک پہلو کو اختیار کر لیا ہے۔جس کے بارے میں احادیث صواب دو اور خطا ایک اجر اتا ہے، اور یہ سمٹ سمٹاکر ۴ میں رہ گیا ،جس میں ہم شافعی، مالکی ، اور حنبلی کے مقابلہ میں حنفی نام سے متعرف ہیں۔
حضرت امام غزالی الشافعیؒ فرماتے ہیں تقلید تو اجماع صحابہ سے ثابت ہے کیونکہ وہ عوام کو فتوے دیتے اور عوام کو یہ حکم نہیں دیتے تھے کہ خود درجہ اجتہاد تک پونچیں، اور یہ بات ان کے علماء اور عوام کے تواتر سے مثل ضروریات کے ثابت ہے (المستصفیٰ ص٣٨٥ج٢)۔
ضرورتیات ایسی یقینی باتوں کو کہتے ہیں جن کو خاص عام سب جانتے ہیں جیسے نمازوں کی فرضیت، ایسے ہی رمضان کے روزوں کی فرضیت، ایسے ہی تواتر سے صحابہ کے دور میں تقلید کا ثبوت ہے۔،اس دور میں کسی ایک بھی غیرمقلد کا نام پیش نہیں کیا جاسکتا۔

No comments:

Post a Comment