Sunday, 12 January 2014

اہل استنباط

اہل استنباط:

استنباط عربی کا لفظ ہے اس کے معنی ہیں کہ اللہ تعالٰی نے جو پانی
 زمین کی تہ میں پیدا کرکے عوام کی نظروں 

سے  چھپا رکھا ہے اس پانی کو کنواں وغیرہ بنا کر نکال لینا ہے۔ اللہ تعالٰی نے اجتہاد اور فقہ کی ایسی عام فہم 

مثال دی  کہ ہر شخص آسانی سے سمجھ جاۓ۔ یہ مثال دے کر پہلی بات تو یہ سمجھا دی کہ انسانی زندگی کے 

  لئے  جتنا پانی ضرورت ہے کہ اس کے بغیر نہ وضو ' نہ غسل نہ کپڑے صاف نہ کھانا پکانا۔ اسی  طرح اسلامی 

زندگی کیلۓ فقہ ضروری ہے 'عبادات ہوں یا معاملات'اقتصادیات ہوں یا سیاسیات'حدود ہوں یا تعزیرات' 

غرض زندگی کا کوئ شبہ ایسا نہیں جس میں فقہ کی رہنمای کی ضرورت نہ ہو۔

دوسری بات  یہ سمجھا دی کہ فقہ اور استنباط کسی شخص کی ذاتی خواہش کا نام نہیں۔ جس طرح زمین کی تہ میں 

جو پانی ہے اللہ تعالٰی کا ہی پیدا کیا ہوا ہے نہ کہ اس انسان کا جس نے کنواں کھود کر اس کو نکال لیا۔ جب بھی 

کوئ آدمی کسی کنوئیں کا پانی پیتا ہے تو اس عقیدے سے کہ اس پانی کا ایک ایک قطرہ خداوند قدوس کا ہی پیدا 

کیا ہوا ہے۔ ایک بھی قطرہ اس مستری نے پیدا نہیں کیا۔ اس نے صرف اپنی محنت اور اوزاروں کی مدد سے 

اسے ظاہر کر دیا ہے تا کہ خلق خدا  مستفید ہو' اسی طرح مجتہد دین کے باریک مسائل کو اصول فقہ کی مدد 

سے عوام کے سامنے ظاہر کرتا ہے تاکہ خدا اور رسول کے ان مسائل پر عوام کے لئے عمل کرنا آسان ہو 

جاۓ۔ اسی لئے  اصول فقہ میں ہر مجتہد کا ایک ہی اعلان ہوتا ہے "القیاس مظھر لا مثبت" کہ ہم قیاس کی مدد  

 سے کتاب و سنت کی تہ میں پوشیدہ مسائل  کو صرف ظاہر کرتے ہیں۔ حاشا  و کلا ہم ہر گز کوئ مسلہ اپنی 

ذات سے گھڑ کر کتاب و سنت کے ذمہ نہیں لگاتے۔

 تیسری بات یہ سمجھا دی کہ جس طرح اللہ تعالٰی نے جب زمین پیدا فرمائ اسی دن سے یہ پانی اس کی تہ میں 

پیدا فرمادیا  البتہ اس کا نکالنا ضرورت کے مطابق ہوتا  رہا  کسی علاقہ میں کنوئیں  چار ہزار سال پہلے بن گئے 

کسی ملک میں چار ہزار سال بعد لیکن جہاں بھی پانی نکل آیا وہ تو خدا کا پیدا کردہ تھا۔ پہلی صدی میں ائمہ 

اربعہ رحمھِم اللہ نے جو اجتہادات فرماۓ وہ بھی کتاب و سنت ہی کے مسائل کا بیان اور تفصیل تھی۔ فرق 

صرف اس قدر رہا کہ صحابہ رضوان علیہم اجمعین کی مبارک زندگیاں جہاد میں گزر گئیں۔ اس لئے ان نفوس 

قدسیہ کو اس کی مکمل تفصیل اور تدوین کا موقع نہ ملا۔ یہ سعادت ائمہ اربعہ رحمِھم اللہ کی قسمت میں تھی کہ 

کتاب و سنت کے ظاہر اور پوشیدہ مسائل کو  پوری تشریح اور تفصیل کے ساتھ نہایت آسان اور عام فہم 

ترتیب سے مدون فرمادیا تاکہ قیامت تک کے مسلمانوں کو کتاب و سنت پر عمل کرنا آسان ہو جاۓ۔

خلاصہ:

جس طرح ایک شخص نے کنواں بنا لیا اور ہزاروں لوگ اس سے پانی پی رہے ہیں' وضو اور غسل کرکے 

نمازیں ادا کر رہے ہیں' کھانے پکانا ہو رہا ہے۔ اب کوئ شخص یہ شور مچا دے کہ اس کنوئیں کا تعارفی  نام 

چوہدری  نواب  دین کنواں ہے اس  لئے  اس میں جو پانی ہے وہ خدا کا پیدا کیا ہوا نہیں بلکہ چوہدری نواب 

دین کا پیدا کیا ہوا ہے۔ چوہدری نواب دین خدا کا شرک بنا بیٹھا ہے' جو لوگ اس کنوئیں سے پانی پیتے  ہیں وہ 

مشرک ہیں '  نہ اس ان کا وضو صحیح نہ غسل۔ نہ نماز درست ہے نہ روزہ۔ تو کیا کوئ عقل مند آدمی اس کی 

خرافات پر کان دھرے گا؟  یہی حال یہاں ہے کہ ائمہ مجتہدین رحمھم اللہ نے کتاب و سنت کے مسائل کو 

ظاہر کر دیا اور کنوئیں کی شکل دے دی۔ مقلدین ان مسائل کے موفق نماز' روزہ ' حج' زکوۃ' جہاد وغیرہ اعمال 

میں مصروف ہو گئے۔ ہمارے غیرمقلد دوست کبھی تو کہتے ہیں کہ یہ پانی خدا کا پیدا کیا ہوا نہیں' ورنہ اس کے 

ہر ہر قطرے پر اللہ کا نام لکھا ہوا دکھاؤ' کبھی کہتے ہیں کہ ساری عمر ایک ہی کنوئیں کے پانی سے وضو کرنا  یہ 

تو  تقلید شخصی ہے' یہ شرک ہے۔ ہر نمازی کا فرض ہے کہ فجر کی نماز کا  وضو اپنے  گھر کے نلکے سے 

کرے'ظہر کا وضو دوسرے ضلع کے نلکے سے' عصر کا وضو دوسرے صوبہ کے نلکے سے'مغرب کا وضو 

 دوسرے ملک کے نلکے سے اور عشاء کا  وضو دوسرے جہاں کے نلکے سے ورنہ ایک ہی نلکے سے سب نمازوں 

کے لئے  وضو کرنا گویا تقلید شخصی ہے یہ شرک ہے۔ اہل سنت والجماعت کہتے کہ جب ہم کنوئیں کے محتاج 

ہیں تو جس کنوئیں کا پانی آسانی سے دستیاب ہو جاۓ ساری عمر اسی ایک کنوئیں کا پانی پینا' اسی کے پانی سے 

ساری عمر کھانا پکانا ' اسی کے پانی سے ساری عمر وضو غسل کرنا بالکل درست ہے' اس کو شرک کہہ کر تمام 

مسلمانوں کو مشرک بنانا دین کی کوئ خدمت نہیں۔


No comments:

Post a Comment