Saturday, 11 January 2014

تحقیق اور حق تحقیق

تحقیق اور حق تحقیق
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

برادران اسلام ! آج دنیا میں علمی پندار نے کچھ ایسی آزاد روی اختیار کرلی جاہلیت تو صرف ایک ہی فتنہ تھی 

لیکن یہ آزادی نت نۓ فتنوں کو جنم دے رھی ہے۔ جس کو

دیکھو وہ دین میں تحقیق کا مدعی ہے اور وہ بلا جھجک کہتا ہے کہ مین تحقیق کر رہا ہوں' اس بات پر اسے بڑا فخر 

اور غرور ہے۔

تحقیق کا حکم:

اس میں شک نہیں کہ دین اسلام ایک تحقیقی دین ہے اور اس نے تحقیق کا حکم دیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالٰی 

ارشاد فرماتے ہیں:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ (الحجرات/٦)
اے ایمان والو اگر آئے تمہارے پاس کوئی گنہگار خبر لے کر تو تحقیق کر لو کہیں جا نہ پڑو کسی قوم پر نادانی سے پھر کل کو اپنے کئے پر لگو پچھتانے ۔


شیخ الاسلام علامہ عثمانیؒ فرماتے ہیں: "اکثر نزاعات اور مناقشات کی ابتداء جھوٹی خبروں سے ہوتی ہے اس لیۓ 

اول اختلاف و تفریق کے اس سرچشمہ کو بند کرنے کی تعلیم دی یعنی کسی خبر کو یونہی بے تحقیق قبول نہ کرو۔" 

معلوم ہوا کہ دین و دنیا میں سارے فسادات کی بنیاد عدم تحقیق ہے' اگر دنیا میں بے تحقیق باتوں پر عمل 
کروگے تو دنیا کا نقصان ہو گا اگر دین میں بے تحقیق باتوں پر عمل کیا تو دین برباد ہوگا۔

تحقیق کا حق:
جس طرح دنیا میں ہر فن میں اسی کی بات تحقیقی  مانی جاتی ہے جو اس فن میں کامل مہارت رکھتا ہو' نہ کہ کسی 
فن سے نا آشنا کی ۔ مثلاۤٓ 
ہیرے جواہرات کے بارے میں ماہر سنار کی تحقیق مانی جاۓ گی نہ کہ کسی کمہار کی، قانون میں تحقیقی بات ماہر قانون دان کی ہو گی نہ کہ کسی مداری کی ۔ اس طرح دین میں بھی دین کے ماہرین کی تحقیق مانی جاۓ گی نہ کہ کندۃناتراش کی ۔ اسی لیۓ اللہ تعالٰی نے جس طرح تحقیق کا حکم دیا یہ بات واضح فرما دی کہ تحقیق کا حق کس کس کو ہے ؟ فرمایا :
وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلَّا قَلِيلًا (النساء/۸۳) 

اور جب ان کے پاس پہنچتی ہے کوئی خبر امن کی یا ڈر کی تو اسکو مشہور کر دیتے ہیں اور اگر اسکو پہنچا دیتے 

رسول تک اور اپنے حکموں تک تو تحقیق کرتے اس کو جو ان میں تحقیق کرنے والے ہیں اس کی اور اگر نہ 

ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی مہربانی تو البتہ تم پیچھے ہو لیتے شیطان کے مگر تھوڑے۔

شیخ الاسلام علامہ عثمانی ؒ فرماتے ہیں: "یعنی ان منافقوں اور کم سمجھ مسلمانوں کی ایک خرابی یہ ہے کہ جب کوئ 

خبر آتی ہے اس کو بلا تحقیق کئے مشہور کرنے لگتے ہیں اور اس میں اکثر نقصان اور فساد مسلمانوں کو پیش آتا 

ہے ' منافق ضرر رسانی کی غرض سے اور کم سمجھ مسلمان کم فہمی کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں ۔ کہیں سے کوئ 

خبر آۓ تو چاہۓ کہ اول پہنچائیں سردار تک اور اس کے نابوں تک ' جب وہ اس خبر کی تحقیق اور تسلیم کر 

لیویں تو ان کے کہنے کے موافق اس کو کہیں نقل کریں اور اس پر عمل کریں۔" اس آیت کریمہ میں اللہ تعالٰی  
نے تحقیق کرنے کا حق رسول اقدسؐ اور ان کے بعد اہل استنباط کو اصطلاح میں "مجتہدین" کہتے ہیں۔

No comments:

Post a Comment