مقلد:
جو شخص خود اجتہاد کی اہلیت نہ رکھتا ہو اس پر تقلید واجب ہے کہ وہ فقہاء سے پوچھ پوچھ کر عمل کر لے۔
جو شخص خود اجتہاد کی اہلیت نہ رکھتا ہو اس پر تقلید واجب ہے کہ وہ فقہاء سے پوچھ پوچھ کر عمل کر لے۔
صحابہ رضی اللہ عنہ ،
تابعین رحھم اللہ میں سے دو ہی قسم کے لوگ تھے۔
حضرت
شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہ ایک ہی مرتبہ میں نہ
تھے ان
میں سے بعض مجتہد تھے اور بعض مقلد کیونکہ قرآن پاک میں بعض کو اہل استنباط
(مجتہد) قرار دیا
ہے اور دوسروں کو ان کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ہے اسی کو تقلید کہتے ہیں۔
غیرمقلد:
جو شخص نہ خود اجتہاد کی اہلیت رکھتا ہو نہ ہی کسی مجتہد کی تقلید کرتا ہو ا سے غیر مقلد کہتے ہیں۔
صحابہ رضی اللہ عنہ ، تابعین،تبع تابعین اور
ائمہ محدثین رحھم اللہ میں سے ایک بھی شخص غیرمقلد نہ
تھا۔ جس کے بارے میں صرف ایک
حوالہ جو مستند ہو اور صاف اور صریح ہو کہ فلاں صحابی یا فلاں
محدث نہ اجتہاد کی
اہلیت رکھتے تھے نہ ہی مجتہد کی تقلید کرتے تھے بلکہ غیرمقلد تھے ایسا صاف اور
صریح حوالہ قیامت تک پیش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہ فرقہ نہ مکہ میں پیدا ہوا
نہ مدینہ
میں نہ ہی عرب کے کسی اور شہر میں۔ یہ فرقہ انگریز کے دور حکومت میں پیدا
ہوا اوریسے یہیں سے
دوسرے ملکوں میں گیا۔
No comments:
Post a Comment